بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹی قسم کے کفارے کا حکم

سوال

 ایک بندہ  جھوٹی قسم کھاتا ہے اور بعد میں توبہ کرتا ہے، آیا توبہ کرنے  سے قسم کا کفارہ ہوجاتا ہے؟

جواب

 جھوٹی  قسم کھانا کبیرہ  گناہوں  میں  سے  شدید  ترین  گناہ  ہے،  جھوٹی  قسم  کا  مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ رب العزت والقدرۃ  کا نام استعمال کرکے اور اللہ تعالیٰ کو گواہ بناکر جھوٹ کہتاہے، اگر کسی نے  نادانی میں  جھوٹی قسم کھالی تو  اس طرح کی قسم پر کفارہ تو نہیں ہے، البتہ سچی توبہ واستغفار لازم ہے۔

صحيح البخاري (8/ 137):

"حدثنا فراس، قال: سمعت الشعبي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس."

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200248
تاریخ25-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں