بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نذر کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ

سوال

ایک شخص نے نذر مانی کہ میرا کام ہو جائے تو میں ہزار نفل پڑھوں گا،  اس نے دو سو نفل پڑھے اور فوت ہو گیا تو  کیا اب مزید نفل کا کفارہ دے گا ؟ اور کام ہو گیا تھا!

جواب

صورتِ مسئولہ میں  نذر منعقد ہو گئی تھی اور 1000 رکعتیں پڑھنا لازم تھا۔اب فوت ہونے کی صورت میں ان کی نذر کامعاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے، ورثاء   پر ان نمازوں کا فدیہ دینا لازم نہیں ہے، البتہ وہ چاہیں تو ان کی طرف سے  ہر نماز کے بدلے  ایک صدقہ فطر کی مقدار کسی مستحقِ زکات کو دے سکتے ہیں ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 72):

"(ولو مات و عليه صلوات فائتة و أوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة  (وكذا حكم الوتر) والصوم."

فقط و الله  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200246
تاریخ25-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں