بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سات دن سے پہلے فوت ہونے والے بچے کے عقیقہ کا حکم

سوال

اگر سات دن سے پہلے بچہ مر جائے تو کیا اس کے لیے عقیقہ کرنا چاہیے؟

جواب

ساتویں دن سے پہلے  مرنے والے بچے کا عقیقہ کر نا مستحب ہے۔ جیسا کہ اعلاءالسنن میں ہے:

"قال:  ولو مات المولود قبل السابع استحبت العقيقة عندنا.  وقال الحسن البصري ومالك: لاتستحب."

 (كتاب الذبائح، باب افضلية ذبح الشاة في العقيقة، ط: ادارة القرآن)

(عقیقہ کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا صفحہ69)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200220
تاریخ24-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں