بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاسٹک کے برتن استعمال کرنا

سوال

پلاسٹک کے بنے ہوئے برتن کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ بندہ ایک طالب علم ہے؛ اس لیے دلیل بھی پیش کریں؟

جواب

پلاسٹک کے بنے ہوئے برتن کے استعمال کرنا جائز ہے، اس لیے اس کے حرام  یا مکروہ ہونے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے اور عام  اشیاء میں اصل یہ ہے کہ ان کا استعمال مباح ہوتا ہے جب تک کوئی دلیل اس کی حرام ہونے کی نہ پائی جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

الْأَصْلُ فِي الْأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ وَأَنَّ فَرْضَ إضْرَارِهِ لِلْبَعْضِ لَا يَلْزَمُ مِنْهُ تَحْرِيمُهُ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ، فَإِنَّ الْعَسَلَ يَضُرُّ بِأَصْحَابِ الصَّفْرَاءِ الْغَالِبَةِ وَرُبَّمَا أَمْرَضَهُمْ مَعَ أَنَّهُ شِفَاءٌ بِالنَّصِّ الْقَطْعِيِّ، وَلَيْسَ الِاحْتِيَاطُ فِي الِافْتِرَاءِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى بِإِثْبَاتِ الْحُرْمَةِ أَوْ الْكَرَاهَةِ اللَّذَيْنِ لَا بُدَّ لَهُمَا مِنْ دَلِيلٍ بَلْ فِي الْقَوْلِ بِالْإِبَاحَةِ الَّتِي هِيَ الْأَصْلُ.

(6 / 459،كتاب الاشربة، ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144201200202
تاریخ24-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں