بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جہیز لینے والے کے نکاح یا ولیمہ کی دعوت میں شرکت کا حکم

سوال

جہیز لیے ہوئے ولیمہ کی دعوت قبول کرنا جائز ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ دعوت قبول کرنا جائز ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"ففي الجامع الصغير: " «إذا دعي أحدكم إلى وليمة عرس فليجب» ". رواه مسلم وابن ماجه وفي رواية لمسلم: " «أو من دعي إلى عرس أو نحوه فليجب» ". قيل إجابة الوليمة واجبة فيأثم التارك بلا عذر لقوله صلى الله عليه وسلم: " «من ترك الدعوة قد عصى الله ورسوله»".

(باب الولیمة، ج:6، ص:339، ط:مکتبه حنیفیه)

الموسوعة الفقهية  میں ہے:

"ذَهَبَ جُمْهُورُ الْفُقَهَاءِ إِلَى أَنَّهُ لاَ يَجِبُ عَلَى الْمَرْأَةِ أَنْ تَتَجَهَّزَ بِمَهْرِهَا أَوْ بِشَيْءٍ مِنْهُ، وَعَلَى الزَّوْجِ أَنْ يُعِدَّ لَهَا الْمَنْزِل بِكُل مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ لِيَكُونَ سَكَنًا شَرْعِيًّا لاَئِقًا بِهِمَا. وَإِذَا تَجَهَّزَتْ بِنَفْسِهَا أَوْ جَهَّزَهَا ذَوُوهَا فَالْجِهَازُ مِلْكٌ لَهَا خَاصٌّ بِهَا."

(باب تملك المرأۃ جھازھا، ج:16، ص:166، دارالصفوۃ مصر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144201200171
تاریخ23-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں