بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج، عمرہ کو مہر مقرر کرنا

سوال

اگر کوئی نکاح میں حقِ مہر  "حج /عمرہ" طے کرتا ہے کہ میں اپنی بیوی کو بطورِ  مہر کے  حج یا عمرہ کراؤں گا تو کیا مہر میں حج یا عمرہ رکھنا شرعًا صحیح ہے یابقیدقرآن (باموالکم)  مہر مثل شوہر کے ذمے  لازم ہوگا  نکاح کے بعد؟

جواب

نکاح  میں  حج  یا عمرے  کو  مہر مقرر کرنا درست نہیں،  اگر ایسا کیا تو نکاح ہوجائے گا،  البتہ مہر مثل لازم  ہوگا۔

لما في البحرالرائق (۲۷۵/۳):

"وأشار المصنف إلى أنه لو تزوجها على أن يحج بها وجب مهر المثل لكن فرق في الخانية بين أن يتزوجها على أن يحج بها وبين أن يتزوجها على حجة فأوجب في الأول مهر المثل وفي الثاني قيمة حجة وسط."

وفی الھندیۃ (۳۰۳/۱):

"ولو تزوج امرأة على طلاق امرأة له أخرى أو على دم عمد له عليها أو على أن يحج بها كان لها مهر مثلها، كذا في فتاوى قاضي خان."

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200162
تاریخ23-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں