بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تنور کم کرایہ پر دے کر مفت روٹی بنوانے کی شرط لگانا

سوال

 کیا زید خالد کو تندور اس شرط پر عرف سے کم کرایہ پر دے سکتا ہے  کہ خالد زید کے گھر  کے لیے روٹی مفت میں لگائے گا؟ جب کہ آٹا زید ہی کا ہوگا،  مثلاً! کرایہ عرفاً دس ہزار ہے اور زید آٹھ ہزار کا طالب ہے، مگر زید کے گھر کے لیے روزانہ روٹی مفت لگانا ہوگی، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں تنّور کا کرایہ  کم رکھ کر ، اپنا آٹا  دے کر، خالد سے مفت روٹی بنوانے کی شرط لگانا مقتضائے عقد کے خلاف ہے، لہذا یہ ناجائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 45):

(قوله: من العقود) احتراز عن العبادات، إذ لا فرق بين فاسدها وباطلها (قوله: دون وصفه) وهو ما عرض عليه من الجهالة أو اشتراط شرط لايقتضيه العقد حتى لو خلا عنه كان صحيحًا ط."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200107
تاریخ22-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں