بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ کا حکم

سوال

میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہوں، میری تنخواہ میں سے کچھ پیسے سرکاری طور پر GP فنڈ کی مد میں کاٹے جاتے ہیں، اور یہ پیسے جبری کاٹے جاتے ہیں، ہر سال حکومت کی طرف سے ان جمع شدہ پیسوں پر اضافہ بھی ہوتا ہے۔ براہِ کرم اس اضافے کی شرعی حیثیت واضح کریں!

جواب

''جی پی'' فنڈ جس کی کٹوتی ملازمین کی مرضی سے نہ ہوتی ہو  بلکہ جبری طور پر ہو، اس کی اصل رقم بمع اضافی رقم کے لینا جائز ہے اور اس کی وجہ سے ملازم کی تنخواہ پر اثرنہیں  پڑتا۔ البتہ جہاں کٹوتی اختیاری ہو،وہاں  اضافی رقم کا لینا جائز نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی ملاحظہ ہو :

جی پی فنڈ (GP Fund) کی مد میں ملنے والی اضافی رقم کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200084
تاریخ21-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں