بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نو مسلم کو تعلیم دینے پر فیس لینا

سوال

میں ابھی مسلمان ہوا ہوں، میں نے امام صاحب سے کہا کہ مجھے اسلامک تعلیم دیں، کہنے لگے کل جواب دوں گا۔ پھر انہوں نے ایک پیکج بنا کے دیا، تین دن کی کلاس کے چھے ڈالر لگیں گے، اضافی کلاس کے لیے زیادہ، کیا یہ پیسے لینا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں امام صاحب اگرچہ اپنے وقت کی فیس لے سکتے ہیں، لیکن اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو اپنے نو مسلم بھائی کے ساتھ   ہم دردی اور خیر خواہی کا جذبہ  رکھتے ہوئے ضروری دینی تعلیم کا سلسلہ بلا معاوضہ قائم کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200077
تاریخ21-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں