بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام سراً سلام پھیر دے تو مقتدی کیا کرے؟

سوال

اگر امام بھول کر اکیلا آہستہ آواز میں سلام پھیر لے تو اب مقتدی کس طرح سلام پھیریں گے؟

جواب

امام کا لفظِ سلام کو جہراً کہنا سنت ہے، اگر کبھی  امام بھول کر سلام سراً  پھیر دے  تو ایسی صورت میں مقتدیوں کے لیے حکم یہ ہے کہ جیسے ہی اُن کو امام کے سلام کا علم ہو وہ بھی سلام پھیر دیں، نماز درست ہو جائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 475):

"(وسننها) ....... (وجهر الإمام بالتكبير) بقدر حاجته للإعلام بالدخول والانتقال. وكذا بالتسميع والسلام".

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200050
تاریخ21-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں