بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرضہ اسکیم سے قرض لینا

سوال

 وزیراعظم پاکستان کی موجودہ قرضہ سکیم سے ایک لاکھ لینا چاہ رہا تھا،  مگر جب سنا کہ مجھے ایک لاکھ کے بدلے دو سالوں میں ایک لاکھ چھ ہزار روپے جمع کرانے ہوں گے تو میں نے قرض کو سود سمجھتے ہوئے رد کر دیا ہے،  آپ سے فتویٰ مطلوب تھا کہ وزیراعظم نے ایک لاکھ  بلا سود کہا تھا،  مگر ایک لاکھ کے بدلے دو سالوں میں چھ ہزار اضافی لینا کس زمرے میں آتا ہے؟

جواب

مذکورہ قرضہ اسکیم شرعًا سودی قرضہ پر مشتمل ہے ، قرض کے عوض مشروط طور پر ایک روپیہ بھی زائد لینا دینا سود میں داخل ہے ، سود خواہ قلیل ہو یا کثیر بہر صورت حرام اور ناجائز ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 166):

"وفي الأشباه: كل قرض جرّ نفعًا حرام".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200045
تاریخ21-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں