بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سبحان نام رکھنا

سوال

"سبحان" نام رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر رکھ سکتے ہیں تو کس طرح ساتھ "عبد" لگانا پڑے گا یا نہیں؟ "محمد" یا "احمد" لگا لیں تو کیسا ہے؟

جواب

"سُبحان" کا معنی ہے پاکی بیان کرنا، یعنی کسی کو تمام عیوب اور نقائص سے پاک ٹھہرانا یا بتانا۔ پاکی بیان کرنا اللہ تعالیٰ کے لائقِ شان ہے؛ لہٰذا یہ نام نہ رکھیں، اس  کےبجائے  کوئی دوسرا نام تجویز کرلیں۔

یا اس نام کے ساتھ "عبد" کا اضافہ کرلیں، یعنی "عبد السبحان"۔

انبیاءِ کرام علیہم  الصلوۃ والسلام، صحابہ کرام رضوان  اللہ علیہم اجمعین یا اولیاءِ کرام رحمہم اللہ کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کرکے رکھ لیں۔ (السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ،2/164،ط:سہیل اکیڈمی –فتاوی محمودیہ 19/386،ط:فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201200019
تاریخ20-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں