بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرایہ پر دیے گئے مکان کی زکاۃ

سوال

جو مکان کرایہ پر دیا ہوا ہے اور اس کا کرایہ استعمال کرتے ہیں اس پر زکاۃ ہوگی؟

1- گھر کی کل قیمت پر زکاۃ ہوگی؟

2- جو رینٹ کی رقم آتی ہے کیا اس پر زکاۃ ہوگی؟

جواب

جو مکان کرایہ پر دیا ہوا ہے اس کی مالیت پر زکاۃ واجب نہیں۔ البتہ اس کی آمدن یعنی کرایہ کی رقم اگر پس انداز ہونے کی صورت میں نصاب کے برابر ہو یا دیگر مال کے ساتھ نصاب بنتا ہو تو  زکاۃ کا سال پورا ہونے پر زکاۃ واجب ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201693
تاریخ31-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں