بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ہر سال حج کسی نبی یا صحابی کی قیادت میں ہوتا ہے؟

سوال

حج ہر سال کسی نبی یا صحابی کی قیادت میں ہوتا ہے،  کیا یہ صحیح ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ حج کی فرضیت کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج پر مسلمانوں کا سب سے پہلا قافلہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ فرمایا تھا، پھر حجۃ الوداع کے موقع پر خود اپنی امارت و قیادت میں مسلمانوں کو حج کروایا تھا، اس کے بعد سے لے کر تا حال ہر سال ایک عالم کو امامِ حج یا امیرِ حج مقرر کیا جاتا ہے۔  تاہم یہ کہنا کہ ہر سال ایک نبی یا کسی صحابی  کی قیادت میں حج ہوتا ہے، درست نہیں ، اس لیے کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرما جانے کے بعد کوئی نیا نبی نہ آیا ہے اور نہ ہی آئے گا،  نیز صحابیت کا شرف جن نفوس کو  رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی صحبت کے طفیل ملا تھا وہ تمام نفوس دوسری صدی ہجری کے آغاز تک اس دنیا میں رہے،  اب انسانوں میں کوئی صحابی دنیا میں حیات نہیں۔   فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201686
تاریخ30-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں