بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک یا کسی اور بینک سے گاڑی لینا

سوال

میزان بینک یا کسی اور بینک سےگاڑی لینا جائز ہے؟ اور کن صورتوں میں جائزہے؟ اس کے بارے میں رہنمائی فرمادیں!

جواب

مروجہ اسلامی بینکوں سے گاڑی لینا شرعاً درست نہیں، یہ سودی معاملہ ہے؛  لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں:

میزان بینک سے قسطوں پر گاڑی لینا

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201683
تاریخ20-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں