بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر پر پالے ہوئے قربانی کے جانور کے بالوں کو استعمال کرنے اور فروخت کرنے کاحکم

سوال

قربانی کی نیت سے اگر دنبہ پالیں تو اس کے بال خود استعمال کر سکتے ہیں اور کیا اس کو فروخت کر سکتے ہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ قربانی کا جانور  اگر پہلےسے پال لیا ہو، اور چارہ وغیرہ گھر پر کھلاتے رہے تو اس جانور کے بال کا استعمال خود کرنا بھی جائز ہے اور ان بالوں کو فروخت کرنا بھی جائز  ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"فإن كان يعلفها فما اكتسب من لبنها أو انتفع من روثها فهو له، ولايتصدق بشيء، كذا في محيط السرخسي."

(الباب السادس،ج:5،ص:301،ط:مکتبه رشیدیه)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201679
تاریخ19-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں