بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محرم میں مچھلی کھانے کا حکم

سوال

محرم کے مہینے میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ مچھلی کھانا منع ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب

از روئے شرع مچھلی حلال جانوروں میں سےہے، مچھلی کا کھانا کسی بھی وقت کسی بھی مہینہ میں جائز ہے، یہاں تک کہ حالتِ احرام میں بھی مچھلی کا شکار کرنا اور کھانا منع نہیں ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص  محرم کے مہینہ کی وجہ سےسوگ وغیرہ کی نیت سےمچھلی کھانا چھوڑ دے تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک حلال چیز کو حرام قرار دینے کے مترادف اور شیطان کے عین مقتضی کےموافق ہے، اور اس کا یہ طرزعمل اسلامی تعلیمات کےخلاف اور گناہ ہوگا۔

تفسير البيضاوي  میں ہے:

يا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلالاً طَيِّباً وَلا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ (168)

يا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلالًا نزلت في قوم حرموا على أنفسهم رفيع الأطعمة والملابس ...وَلا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطانِ لا تقتدوا به في اتباع الهوى فتحرموا الحلال وتحللوا الحرام. ولَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ظاهر العداوة عند ذوي البصيرة وإن كان يظهر الموالاة لمن يغويه، ولذلك سماه ولياً في قوله تعالى:أَوْلِياؤُهُمُ الطَّاغُوتُ.

(سورة البقرة،ج:1،ص:118،ط:دار إحیاء التراث العربي)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144112201674
تاریخ19-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں