بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کے لیے نام کی تجویز

سوال

میں سرینگر کشمیر سے ہوں۔ آپ سے درخواست ہے کہ بچی 14-08-2020 time 07…20  کو پیدا ہوئی، آپ تجویز کریں کہ کیا  نام رکھیں، ماں کا نام ۔۔۔، پیدائش16-02-1989!

جواب

شریعتِ مطہرہ کی ہدایات بچیوں کے نام رکھنے کے متعلق یہ ہے کہ ازواجِ  مطہرات یا دیگر صحابیات مکرمات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی نام پر بچیوں کے نام رکھے جائیں یا کم از کم کوئی اچھے معنی والا عربی نام رکھا جائے، ہماری ویب سائٹ پر اسلامی ناموں والے سیکشن میں بہت سے اچھے  اچھے نام موجود ہیں ان کو دیکھ کر اس میں سے منتخب کرلیں، کچھ نام یہاں بھی ذیل میں ذکر کیے جارہے ہیں:صحابیات کے ناموں میں سے چند نام درج کیے جاتے ہیں ان ناموں میں سے جو نام پسند ہو وہ رکھ لیں:

خدیجہ، عائشہ، رَملہ، میمونہ، جویریہ، صفیہ، فاطمہ،نفیسہ،خولہ،  سعاد، آسیہ، أرویٰ ، آمنہ، اسماء، اُمیمہ، اُمامہ،  برزہ، بریرہ، برکہ،  ثویبہ،حسّانہ، حمنہ ، رائعہ، عاتکہ،عمارہ، عمیرہ،لبابہ، لبنی،ماریہ، مریم،ملیکہ،  نائلہ، زِنِّیْرہ۔

باقی نام رکھنے میں بچے کی تاریخِ پیدائش اور وقت یا والدین کے نام، تاریخِ پیدائش کا عمل دخل نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201651
تاریخ19-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں