بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پاک قطر فیملی تکافل سے متعلق جامعہ کا موقف

سوال

 ہمارے علاقے کے مولانا صاحب پاک قطر فیملی تکافل میں کام کرتے ہیں ، انہوں نے  مجھے بھی تکافل کروانے کا کہا تھا ، میں نے عرض کیا کہ مفتیانِ کرام اس کو جائز نہیں سمجھتے تو انہوں نے  مجھے کئی فتاوی دکھائے جو مختلف دارالافتاء کے تھے ،  پھر آپ کی ویب سائٹ پر میں نے پاک قطر فیملی تکافل کے بارے میں فتویٰ تلاش کیا،  جس کا نمبر 143909201347 ہے،  جس میں عدمِ جواز بتایا گیا ہے تو میں نے وہ فتویٰ ان کو دکھایا،  جس پر انہوں نے مجھے ایک کتاب بھیجی،  جس کا نام" تکافل کی شرعی حیثیت" ہے،    مجھے تو اس کی سمجھ نہیں آئی ، آپ بتائیں کہ کیا تازہ تحقیق سے پاک قطر فیملی تکافل کا جواز ثابت ہو چکا ہے یا نہیں؟

جواب

  جمہور علماءِ کرام کے نزدیک  کسی بھی قسم کی  بیمہ (انشورنس) پالیسی  سود اور قمار (جوا) کا مرکب  ومجموعہ ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اور  مروجہ انشورنس کے متبادل کے طور پر  بعض ادارے   ”  تکافل“ کے عنوان سے جو نظام  چلارہے ہیں، وہ بھی ناجائز ہے؛ اس لیے پاک قطر فیملی  تکافل یا اس  جیسی جتنی  بھی تکافل  کرنے والے ادارے ہیں،  ان سے   ان سے تکافل کرانا ،پالیسی لینا ،اور رقم جمع کرانے سے اجتناب لازم ہے، اور جس   فتوی کا آپ نےذکر کیا وہ ہمارے جامعہ کا  فتوی ہے اور  اور اب بھی تکافل سے متعلق  یہی فتویٰ ہے۔

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

تکافل ماڈل اور اس کی شرعی خرابیاں 

نیز اس مسئلہ کی مزید  تفصیل کے لیے    ”مروجہ تکافل اور شرعی وقف‘‘  اور  ”مروجہ تکافل کا فقہی جائزہ“  نامی کتابوں کا مطالعہ مفید رہے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201626
تاریخ18-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں