بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر کے لیے آبرو کاٹنے کا حکم

سوال

کیا بیوی شوہر کے لیے ابرو کاٹ سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ موجودہ فیشن کے مطابق  مختلف ڈیزائنوں  کے ساتھ   آبرووئیں  بنانا تو ہرگز جائز نہیں،البتہ جو زائد بال  بدنما لگ رہے ہوں، ان کو صاف کرکے  معتدل حالت پر لانے کی اجازت ہے، بطور فیشن آبرو کے بال کاٹنے والی  عورت پر حدیث شریف میں  لعنت وارد ہوئی ہے؛ لہذا اس سے بچنا بہت ضروری ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

عن علقمة عن عبد الله قال لعن الله الواشمات والمستوشمات والنامصات والمتنمصات و المتفلجات للحسن المغيرات خلق الله.

(باب تحریم فعل الواصلۃ    والمستوصلہ/ج:6/ص:166/ط:دارالجیل )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201625
تاریخ18-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں