بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذان و اقامت کے لیے داڑھی کی شرط

سوال

کیا اذان و اقامت کے لیے داڑھی رکھنا شرط ہے؟ اگر نہیں تو ایک مشت سے چھوٹی داڑھی والا یہ کام کرے تو کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  جو شخص داڑھی منڈواتا ہو یا شرعی  مقدار سے کم کرتاہو اس کو  مؤذن بنانا مکروہ  ہے، اگر ایسے شخص نے اذان یا اقامت دے دی تو وہ ادا تو ہوجائے گی، لیکن اذان یا اقامت کے لیے ایسے شخص کو مقرر کرنا چاہیے جو شریعت کے احکامات پر عمل کرنے والا ہو۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

’’ وحاصله أنه يصح أذان الفاسق وإن لم يحصل به الإعلام أي الاعتماد على قبول قوله في دخول الوقت بخلاف الكافر وغير العاقل فلايصح أصلًا. ‘‘ (1/393)

فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201618
تاریخ18-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں