بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ربیع الاول میں سفید کپڑے بنانا اور اس کی خرید وفروخت کرنے کا حکم

سوال

ربیع الاول میں سفید کپڑے بنانا اور اس کی خرید وفروخت کرنا کیسا ہے، حال آں کہ جشنِ ولادت منانا بدعت ہے؟

جواب

سفید لباس پہننا نہ صرف جائز، بلکہ اولیٰ ہے، سفید لباس کا رسول اللہ ﷺ کے ہاں پسندیدہ ہونا قولاً و عملاً ثابت ہے، نیز سفید کپڑ ے کا استعمال بدعت کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ اس کا استعمال جائز امور میں بھی بکثرت ہوتاہے؛ اس  لیے اگر سفید کپڑا کسی بدعت کے لیے استعمال ہو تو اس کا وبال استعمال کرنے والے پر ہوگا، اس بنا پرسفید کپڑے کی خریدوفروخت  ناجائز نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201610
تاریخ18-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں