بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موت کی اطلاع پوسٹر کے ذریعے دینا

سوال

 کیا موت کی اطلاع پوسٹر کے ذریعے دینا جائز ہے؟

جواب

 موت کی اطلاع  کسی بھی جائز ذریعے جیساکہ موبائل میسج، واٹس ایپ، پوسٹر وغیرہ کے ذریعے دینا جائز ہے، البتہ اس کا لحاظ ضروری ہے کہ اس میں کسی جان دار کی تصویر  یا اور کوئی ناجائز  چیز کا اشتہار نہ ہو۔

 حدیث شریف میں اس گناہ پر سخت وعید آئی ہے:

’’صحیح البخاري‘‘: '' [عن] عبد اللّٰه قال : سمعت النبي ﷺ یقول : ’’ إن أشد الناس عذاباً عند اللّٰه المصورون ‘‘.

(۲/۸۸۰ ، کتاب اللباس ، باب عذاب المصورین یوم القیامة ، صحیح مسلم : ۲/۲۰۱ ، کتاب اللباس ، باب تحریم صورة الحیوان)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ  اللہ تعالی کے ہاں سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201589
تاریخ18-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں