بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فرض کی تیسری یا چوتھی رکعت میں سورت ملانے سے سجدۂ سہو کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص فرض کی تیسری یا چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی سورت پڑھ دے یا کوئی اور دعا پڑھ دے۔تو کیا اسے سجدہ سہو کرنا چاہیے؟

جواب

فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف  سورۂ فاتحہ  پر اکتفا کرنا مسنون ہے، بہتر یہ ہے کہ سورت نہ ملائی جائے، لیکن اگر کوئی بھولے سے سورت بھی پڑھ لیتا ہے یا کوئی اور دعا پڑھ لیتا ہے تو اس سے سجدۂ سہو واجب نہ ہو گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 126):

"ولو قرأ في الأخريين الفاتحة والسورة لايلزمه السهو، وهو الأصح".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 511):

"(واكتفى) المفترض (فيما بعد الأوليين بالفاتحة) فإنها سنة على الظاهر، ولو زاد لا بأس به.

(قوله: ولو زاد لا بأس) أي لو ضم إليها سورةً لا بأس به؛ لأنّ القراءة في الأخريين مشروعة من غير تقدير".

فقط و الله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201571
تاریخ17-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں