بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا نام محمد ثمامہ رکھنے کا حکم

سوال

میں اپنی بیٹی  کا نام محمّد ثمامہ رکھنا چاہتا ہوں، کیا یہ ٹھیک ہے یا صرف ثمامہ ٹھیک ہے؟ 

جواب

بچیوں کے ناموں کے ساتھ "محمد" لگانے کا امت میں تعامل نہیں، نیز ثمامہ نام بھی مردوں کا ہے، ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں (الاصابہ لابن حجر)۔

 بہتر ہوگا کہ آپ  اپنی بیٹی کے لیے اس  نام کے علاوہ صحابیات اور دیگر نیک خواتین کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کرلیں۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201500
تاریخ16-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں