بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ کو گروی رکھنےکاحکم

سوال

پلاٹ رہن رکھوانا کیسا ہے؟

جواب

 

قرض کے بدلے میں اپنی کوئی چیز (مکان،پلاٹ، زیور وغیرہ) قرض دینے والے کے پاس رکھوانے کو ’’رہن‘‘ یعنی گروی رکھوانا کہتے ہیں اور جس کےپاس وہ چیز گروی رکھی جائے اس کے لیے اس چیز سے فائدہ لینا (اگرچہ وہ رہن رکھوانے والے کی اجازت سے ہی کیوں نہ ہو) شرعًا جائز نہیں ہے۔

بصورتِ مسئولہ قرض  کےبدلے پلاٹ گروی رکھنا درست ہے، تاہم جس کے پاس پلاٹ گروی رکھا ہے اس  کے لیے پلاٹ سے فائدہ اٹھانا شرعًا درست نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وشرعًا (حبس شيء مالي بحق يمكن استيفاؤه) أي أخذه (منه) كلًّا أو بعضًا."

 

(کتاب الرھن، ج:6، ص:477، ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه: كلّ قرض جرّ نفعًا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.

 

لايحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا."

 

(مطلب کل قرض جر نفعًا حرام، ج:5، ص:166، ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله أعلم 

 

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201463
تاریخ15-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں