بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم

سوال

مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کرنا کیسا ہے؟

جواب

مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا مکروہ ہے، چاہے میت اور نمازی دونوں مسجد میں ہوں یا میت مسجد سے باہر ہو اور نمازی مسجد میں ہوں یا امام کے ساتھ بعض نمازی مسجد سے باہر ہوں اور بعض نمازی مسجد کے اندر ہوں، یا میت مسجد میں ہو اور امام اور نمازی مسجد سے باہر ہوں۔ البتہ بارش وغیرہ  جیسے عذر کی وجہ سے مکروہ نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (ج:1، ص:165، ط:دار الفكر):

"وصلاة الجنازة في المسجد الذي تقام فيه الجماعة مكروهة سواء كان الميت والقوم في المسجد أو كان الميت خارج المسجد والقوم في المسجد أو كان الإمام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقي في المسجد أو الميت في المسجد والإمام والقوم خارج المسجد هو المختار، كذا في الخلاصة. ولاتكره بعذر المطر ونحوه، هكذا في الكافي تكره في الشارع وأراضي الناس، كذا في المضمرات أما المسجد الذي بني لأجل صلاة الجنازة فلاتكره فيه، كذا في التبيين."

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201435
تاریخ14-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں