بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع لينے کے لیے كورٹ کی بجائے کسی دینی ادارے میں جانا

سوال

اگر خلع لینے کے لیے کورٹ نہیں جانا چاہتے تو کیا بنوری ٹاؤن آسکتے ہیں؟

جواب

دارالافتاء بنوری ٹاؤن دینی وشرعی مسائل میں عوام کی   رہنمائی کا مرکز ہے ،یہاں سے آپ اپنے دینی مسائل زبانی وتحریری طور پرمعلوم  کرنے کے لیے رجوع کرسکتے ہیں،نیز فریقین کی باہمی رضامندی سے اختلافی مسائل کے حل کے لیے بھی دارالافتاء اپنی خدمات پیش کرتاہے، اگر فریقین خلع پر رضامند ہوں تو شرعی احکام کی روشنی میں خلع کی تحریر  کی تیاری کے لیے آسکتے ہیں،  لیکن عدالت کی طرز پر خلع کی ڈگری جاری کرنا یہ دارالافتاء کے دائرہ  اختیار میں نہیں آتا، اس کے لیے متعلقہ قانونی ادارے ہی سے رابطہ کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201392
تاریخ13-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں