بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فارمیسی لائسنس یا انجیئرنگ ڈگری کرایہ پر دینا

سوال

اگر کوئی شخص اپنا سرٹیفیکیٹ د وسرے کو دے دے اور وہ اس سے کوئی دکان کھول دے اور خود اس کاروباری میں شریک نہ ہو، بلکہ اس سے فکس پیسے وصول کرے تو کیا یہ جائز ہے؟ مطلب انجینئرنگ ڈگری یا فارمیسی کی ڈگری دے دے؟

جواب

کسی بھی شعبے کا لائسنس یا ڈگری  جو کسی شخص یا کمپنی کو حکومت کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے وہ خاص اس شخص یا کمپنی کے لیے اس شعبہ کو اختیار کرنے کا اجازت نامہ ہوتا ہے، کسی اور کے لیے اس لائنسس کو استعمال کی قانوناً اجازت نہیں ہوتی اور حکومت کی ایسی جائز پابندیاں جو مفادِ عامہ کی مصلحت میں ہوں ان کی پاس داری شرعاً بھی لازم ہوتی ہے۔

لہذا فارمیسی لائسنس یا انجینئرنگ ڈگری جس کے لیے گورنمنٹ نے جاری کی ہے، اس کے علاوہ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، نیز یہ اجازت نامہ کوئی ایسا مال نہیں ہے جس کو کرایہ پر دیا جاسکے یا فروخت کیا جاسکے، اس لیے اس کو کرایہ پر دینا اور لینا اور اس کی آمدنی دونوں ناجائز ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201391
تاریخ13-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں