بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کے اوپر کلمہ والی چادر ڈالنا

سوال

میت کے اوپر جو کلمے والی چادر ڈالی جاتی ہے اس کا شرعی حکم۔ بیان فرما دیں۔

جواب

جس کپڑے پر کلمہ طیبہ یا قرآن کریم کی آیات لکھی ہوئی ہوں اسے میت پر ڈالنایا کفن میں شامل کرنا جائز نہیں،اس سے  کلمہ طیبہ اور آیات مبارکہ کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ لہٰذا میت کی چارپائی پر سادہ چادر ڈالنی چاہیے۔

البتہ بغیر سیاہی کے صرف انگلی کے ساتھ میت کے چہرے یا سینے پر کوئی آیت یا کلمہ لکھنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ اس کو مسنون یا ضروری نہ سمجھا جائے۔(احکامِ میت 369،ادارۃ الفاروق) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201381
تاریخ13-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں