بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گندم کی کٹائی سے ایک مہینہ پہلے قرض لے کر گندم کی فصل کٹائی کے بعد قرض خواہ کو دینا

سوال

ہمارے علاقے میں ایک رواج ہے کہ گندم کٹائی سے تقریبًا ایک مہینہ پہلے ایک دوسرے سے قرض لیتے ہیں اس شرط پر کہ ایک مہینہ کے بعد میری فصل کی کٹائی ہوجائے گی تو میں آپ کو دے دوں گا،  کیا یہ تبادلہ جائز  ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر  رقم  ایک مہینہ کے لیے قرض لے کر ، اس کی ادائیگی گندم کے ذریعے کی جائے  تو جس دن قرض ادا کیا جارہا ہے اس دن  اتنی رقم کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق گندم دی جائے تو  یہ جائز ہے، اور اگر  قرض دینے کی صورت میں یہ  وعدہ ہو کہ ایک مہینہ کے بعد جو گندم کی فصل تیار ہوگی وہ آپ کو فروخت کروں گا، تو اس صورت میں قرض دینے والے کا اس گندم کو مارکیٹ ویلیو کے حساب سے خریدنا جائز ہوگا،  لیکن  دونوں صورتوں میں مارکیٹ ویلیو سے کم میں گندم کی خرید وفروخت جائز نہیں  ہوگی، اس لیے  کہ یہ قرض کی  وجہ سے نفع لیا جارہا ہے، اور قرض پر مشروط لینا شرعًا سود ہے، اس لیے جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به و إن كان في الأصل فاسدًا؛ لكثرة التعامل، و كثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."

(6/63،مطلب فی اجرۃ الدلال، کتاب الاجارۃ، ط؛سعید)

         وفیہ ایضا:

"و في الخانية: رجل استقرض دراهم وأسكن المقرض في داره، قالوا: يجب أجر المثل على المقرض؛ لأن المستقرض إنما أسكنه في داره عوضا عن منفعة القرض لا مجانًا."

(6/63،مطلب أسكن المقرض في داره يجب أجر المثل ، کتاب الاجارۃ، ط؛سعید)

 وفیہ ایضا:

"و في الأشباه: كلّ قرض جرّ نفعًا حرام؛ فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن."

(5/166، مطلب کل قرض جر نفعًا، ط؛ سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144112201376
تاریخ13-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں