بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل کے دوران شرم گاہ کو ہاتھ لگانےسے وضو کا حکم

سوال

 غسل کرتے وقت اگر اپنی شرم گاہ کوہاتھ لگ جائے تو کیاغسل کے دوران جو وضوکرتےہیں، وہ ٹوٹ جاتاهے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ غسل کے دوران شرم گاہ کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر شرم گاہ سےکوئی چیز (مثلًا: پیشاب کا قطرہ) نکلے تو وضو ٹوٹ جائےگا۔

سنن أبي داود میں ہے:

"عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: «هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ»، أَوْ قَالَ:بَضْعَةٌ مِنْه".

(باب الرخصة في ذلك، رقم الحدیث:184، ج:1، ص:149، ط: مکتبہ بشری)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201363
تاریخ12-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں