بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسطوں پر مکان لینے کا حکم

سوال

قسط پر مکان لینا کیسا ہے حکمًا؟

جواب

بصورتِ مسئولہ قسطوں پر  مکان یا کوئی اور چیز خریدنے کی شرعاً اجازت ہے بشرطیکہ خریداری کے وقت عاقدین اس چیز  کی قیمت مقرر کرلیں اور کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر  کی وجہ سے کسی قسم کا اضافہ وصول نہ کیا جائے، اور نہ ہی قسط کی جلدی ادائیگی کی صورت میں قیمت کی کمی مشروط ہو۔

شرح المجلہ میں ہے:

"البیع مع تاجیل الثمن و تقسیطه صحیح،یلزم ان یکون المدة معلومة فی البیع بالتاجیل و التقسیط".

(شرح المجلة لسليم رستم باز،ص:100،رقم الماده:245)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدًا".

(البحرالرائق،ج:6،ص:115،ط:مکتبة رشیدیة)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144112201362
تاریخ12-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں