بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، پانچ بیٹے، دو بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

ماں،  5بھائي اور  2بہنوں میں 7550000 ساڑھے پچھتر لاکھ ، ترکہ کی تقسیم کر دیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں ترکہ کی شرعی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن دفن کے اخراجات اور قرضہ جات کی ادائیگی کے  بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں نافذ کرنے کے بعد ان کی کل جائیداد  منقولہ وغیر منقولہ کو  96 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو  12 حصے اور مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 14، 14 حصےاور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 7، 7 حصے ملیں گے۔

لہذا ساڑھے پچھتہر لاکھ (7550000)میں سے  943750 روپےمرحوم کی بیوہ کو،  1101041.67روپےمرحوم کے ہر ایک بیٹے کو، 550520.83 روپے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

نوٹ:  مذکورہ تقسیم اس صورت میں ہے جب ماں سے مراد مرحوم کی بیوہ اور بھائیوں اور بہنوں سے مراد مرحوم کی اولاد ہو ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201355
تاریخ12-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں