بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیٹول والے پانی سے وضو کرنا

سوال

ڈیٹول والے پانی سے وضو کا حکم کیا ہے؟

جواب

 جس پانی میں سیال ڈیٹول (liquid dettol) کے قطرے ڈالے گئے ہوں اس پانی سے وضو اور غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

البناية شرح الهداية (1 / 361):

"(ويجوز الطهارة بماء خالطه شيء طاهر فغير أحد أوصافه) ش: وهي اللون والطعم والريح....(كماء المد) ش: أي السيل لأنه يجيء بتغير طين هذا إذا كان رقة الماء غالبة وإن كان الطين غالبًا لايجوز الوضوء به كذا في " الذخيرة " م: (والماء الذي اختلط به الزعفران أو الصابون أو الأشنان) ... وعن أبي يوسف ماء الصابون إذا كان ثخينًا قد غلب على الماء لايتوضأ به وإن كان رقيقًا يجوز وكذا ماء الأشنان".

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201351
تاریخ12-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں