بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے غسل میں سرکے بال کھولنا ضروری نہیں

سوال

عورتوں کے لیے غسل میں سر کے بالوں کی مینڈھیاں کھولنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر عورت کے سرکے بال گندھے ہوئے ہوں تو بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے، مینڈھیاں کھولنا ضروری نہیں۔ البتہ اگر عورت کے بال کھلے ہوئے ہوں تو پورے بالوں کا دھونا ضروری ہے، اگر کچھ حصہ خشک رہ جائے تو غسل درست نہیں ہوگا۔

الصحیح لمسلم میں ہے:

عن أم سلمة قالت قلت يا رسول الله إنى امرأة أشد ضفر رأسى فأنقضه لغسل الجنابة قال « لا إنما يكفيك أن تحثى على رأسك ثلاث حثيات ثم تفيضين عليك الماء فتطهرين ».

(باب حکم ضفائر المغتسلة/ج:1/ص:178/ط:دارالآفاق ، بیروت)

( وكفى بل أصل ضفيرتها ) أي شعر المرأة المضفور للحرج أما المنقوض فيفرض غسل كله اتفاقًا.

 (كتاب الطهارة/ج:1/ص:153/ط:دارالفکر)

البحرالرائق میں ہے:

( وكفى بل أصل ضفيرتها ) أي شعر المرأة المضفور للحرج أما المنقوض فيفرض غسل كله اتفاقًا۔

(كتاب الطهارة/ج:1/ص:54/ط:دارالمعرفة)

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201329
تاریخ12-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں