بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فدیہ میں کون کون سی اشیاء دی جا سکتی ہیں؟

سوال

فدیہ کن کن چیزوں سے ادا کرسکتے ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  کسی بھی  مالی/قیمتی چیز سے فدیہ ادا کیا جا سکتا ہے، البتہ قیمت لگانے کی صورت  میں یہ چار چیزیں معیار ہوں گی؛ کیوں کہ احادیث میں ان چیزوں کی یہ مقدار وارد ہوئی ہے:

1- پونے دو کلو گندم یا اس کی مارکیٹ کی قیمت کا حساب کر لیا جائے۔

2- ساڑھے تین کلو جو۔

3-  کھجور ساڑھے تین کلو۔

4- کشمش ساڑھے تین کلو۔

یا ان تینوں اشیاء کی ساڑھے تین کلو کے حساب سے مارکیت کی قیمت۔

"يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم.

(قوله: نصف صاع من بر) أي أو من دقيقه أو سويقه، أو صاع تمر أو زبيب أو شعير أو قيمته، وهي أفضل عندنا لإسراعها بسد حاجة الفقير، إمداد".

(الد المختار وحاشیة ابن عابدین، باب قضاء الفوات، مطلب في إسقاط  الصلاة عن المیت، 2/72، 73 ط:ایچ ایم سعید، كراچی)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم يوم نصف صاع من ثلث ماله".

(الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت، جلد 1/ صفحة:125، ط: دارالفکر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201255
تاریخ10-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں