بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسین کا تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مدرسہ میں مدرسین حضرات تنخواہ کی زیادتی کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟

جواب

مدرسین اور مدرسہ کی انتظامیہ کے درمیان معاہدہ  اجارہ کا ہوتا ہے، اور اجارہ میں فریقین اپنی رضامندی سے جو بھی اجرت طے کرلیتے ہیں وہ جائز ہوتا ہے۔ اور عقد کے مطابق اجرت اور عمل واجب ہوتی ہے۔

مدرسہ انتظامیہ کو چاہیے کہ مدرسین کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے تنخواہ مقرر کریں، اور مدرسین کے لیے مناسب ہے  کہ اپنی  خدمات اللہ تعالی کی رضا کی خاطر سر انجام دیں،  جو تنخواہ ملتی ہے اس کو عطیہ خداوندی سمجھ کر قبول کریں، تاہم مجبوری کی صورت میں تنخواہ میں  زیادتی کی درخواست کر سکتے ہیں۔

مبسوط للسرخسی میں ہے:

"اعْلَمْ أَنَّ الْإِجَارَةَ عَقْدٌ عَلَى الْمَنْفَعَةِ بِعِوَضٍ هُوَ مَالٌ وَالْعَقْدُ عَلَى الْمَنَافِعِ شَرْعًا نَوْعَانِ أَحَدُهُمَا: بِغَيْرِ عِوَضٍ كَالْعَارِيَّةِ وَالْوَصِيَّةِ بِالْخِدْمَةِ وَالْآخَرُ: بِعِوَضٍ وَهُوَ الْإِجَارَةُ."

( کتاب الاجارات15/74)

فتاوی  شامی میں ہے:

" بِخِلَافِ الزِّيَادَةِ مِنْ جَانِبِ الْمُؤَجِّرِ فَتَجُوزُ مُطْلَقًا."

(شروط الاجارۃ6/21)

فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ دیکھیے:

امامت کی تنخواہ کا معیار

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201252
تاریخ10-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں