بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تعمیراتی قرضہ پر اضافی رقم لینا

سوال

"اخوت“ والے 5 لاکھ  روپے مکان کی تعمیر کے  لیے دیتے ہیں اور یہ ادائیگی ان کو  3سے 5سال میں واپسی  کرنی ہوتی ہے،  اور ہرسال میں وہ  25فی صد اضافی رقم لیں گے،  یعنی اگر ”اخوت“  والے  5 لاکھ  روپے دیتے  ہیں، تو  5 سال  میں  ایک  لاکھ  25 ہزار روپے اضافی وصول  کریں  گے، آیا یہ جو  اضافی پیسے لے رہے  ہیں،  یہ رقم سود تو نہیں ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرض کا ضابطہ یہ ہے کہ جتنا قرض دیا   جائے اتنا ہی واپس لیا جائے،  اس پر کسی قسم کا مشروط نفع لینا سود ہے، لہذا  صورتِ  مسئولہ میں  اگر ”اخوت“ ادارے  والے  مذکورہ  اضافی رقم اسی  تعمیراتی قرضہ  کی بنیاد پر لیتے ہیں تو  یہ سودہے ، ایسا قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔

الجامع الصغیر میں ہے:           

  "كل قرض جر منفعةً فهو ربا".

(الجامع الصغیر للسیوطی، ص:395، برقم :9728، ط: دارالکتب العلمیہ، بیروت) 

فتاوی شامی میں ہے:

"وَفِي الْأَشْبَاهِ: " كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ ؛ فَكُرِهَ لِلْمُرْتَهِنِ سُكْنَى الْمَرْهُونَةِ بِإِذْنِ الرَّاهِنِ". وفي الرد:"(قَوْلُهُ: كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ) أَيْ إذَا كَانَ مَشْرُوطًا، كَمَا عُلِمَ مِمَّا نَقَلَهُ عَنْ الْبَحْرِ".

(166/5، شامی، سعید)

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

اخوت نامی ادارے کے ساتھ شراکت داری کا معاملہ

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201224
تاریخ10-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں