تحفہ میں ملا قربانی کا گوشت فروخت کرنا
سوال
قربانی کا گوشت تحفے میں ملا یا بطور صدقہ ملا، کیا اس ملنے والے گوشت کو فروخت کرنا جائز ہے؟
جواب
تحفہ میں ملا قربانی کا گوشت یا صدقہ میں ملا قربانی کا گوشت فروخت کرنا جائز ہے، البتہ اپنی جانب سے کی گئی قربانی کے جانور کا گوشت فروخت کرنا جائز نہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وَاللَّحْمُ بِمَنْزِلَةِ الْجِلْدِ فِي الصَّحِيحِ حَتَّى لَا يَبِيعَهُ بِمَا لَا يُنْتَفَعُ بِهِ إلَّا بَعْدَ الِاسْتِهْلَاكِ.
وَلَوْ بَاعَهَا بِالدَّرَاهِمِ لِيَتَصَدَّقَ بِهَا جَازَ؛ لِأَنَّهُ قُرْبَةٌ كَالتَّصَدُّقِ، كَذَا فِي التَّبْيِينِ. وَهَكَذَا فِي الْهِدَايَةِ وَالْكَافِي.
(كتاب الاضحية، الْبَابُ السَّادِسُ فِي بَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ فِي الْأُضْحِيَّةِ وَالِانْتِفَاعِ بِهَا، ٥ / ٣٠١، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

