بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حمل میں طلاق

سوال

اگر بیوی کے پیٹ میں حمل ہو اور اس حال میں خاوند طلاق دے تو کیا طلاق هو جاتی هے؟

جواب

اگر طلاق کے وقت عورت حاملہ ہو تو بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، البتہ حمل کی صورت میں عدت اس وقت ختم ہوگی جب بچے کی پیدائش ہوجائے گی۔ 

قال اللّٰه سبحانه وتعالیٰ : ﴿ وَاُولاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلَهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ﴾ [ الطلاق ، جزء آیت : 4 ]

 عن الحسن ومحمد قالا : إذا کانت حاملاً طلّقها متی شاء۔

( المصنف لابن أبي شیبة / ما قالوا في الحامل کیف تطلق،9؍513رقم :18045المجلس العلمي  )

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 232):

"(وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل".

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201157
تاریخ09-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں