طلاق کے بعد عورت کی میراث میں حصہ لینا درست نہیں ہے
سوال
ایک صاحب نے اپنی تایازاد سے شادی کی، ایک بیٹی پیدا ہوئی، اس کے ایک سال بعد طلاق دے دی، مطلقہ نےباقی زندگی اپنی بیٹی اور بیٹی کی وفات کے بعد نواسے کے ہاں گزاری، جب وہ وفات پاگئیں توسابقہ شوہر نے مرحومہ کی وراثت (ان کے والد کی طرف ملنے والی جائیداد )میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کردیا اور مرحومہ کے بھائیوں سے حصہ وصول کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ کہ کیا طلاق دے دینے کے بعد موصوف مرحومہ کی وراثت کے حق دار تھے بھی یا نہیں ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو عدت گزارنے کے بعد عورت اور مرد کا رشتہ بالکل ختم ہوچکا تھا،لہذا عورت کے انتقال کے بعد شوہر اپنی سابقہ بیوی کی میراث میں حصے دار نہیں تھا جو حصہ اس نے وصول کیا ہے وہ اس کے لیے حلال نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

