بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پاک قطر تکافل میں ملازمت کرنا

سوال

پاک قطر  تکافل کمپنی  میں کاروبار اور ملازمت کے حوالے سے  راہ نمائی  فرمائیں۔ وہ  اس  کے شرعی اصولوں کے مطابق  ہونے  کی دلیل کے طور  پر  مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کا حوالہ دیتے ہیں کہ  مولانا محمد تقی عثمانی صاحب اس کے شریعہ بورڈ کے  چیئرمین ہیں۔کیا یہ درست ہے؟

جواب

موجودہ  زمانے  میں  تکافل کے نام سے جتنی بھی کمپنیاں  کام کر رہی ہیں، متعدد شرعی خرابیوں کی بنا  پر   ان کے ساتھ مالی معاملات کرنا جائز نہیں ہے۔

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

پاک قطر تکافل کی پالیسی خریدنا اور اس ادارے میں ملازمت کرنے کا حکم

اصول یہ ہے کہ جب کسی معاملے کے  جائز  یا نا جائز ہونے  میں مفتیانِ   کرام کی رائے میں اختلاف  ہو تو  احتیاط کا تقاضا  بھی یہ  ہے کہ اس  سے  بچا  جائے، لہذا شرعًا  اس قسم کی  تکافل  کمپنیوں میں ملازمت کرنا درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201145
تاریخ08-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں