بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ عورت کے زنا سے پیدا ہونے والے بچہ کے نسب کا حکم

سوال

 شادی شدہ عورت سے زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ کس کا سمجھا جائے گا زانی یا شوہر کا اور نان و نفقہ کس پر آئے گا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں شادی  شدہ عورت کا اگر  زنا سے بچہ پیدا ہوگیا تو اس کا نسب زانی سے ثابت نہیں ہوگا، بلکہ بچہ کا نسب شوہر سے ثابت ہوگا، اور وہ اس کا بچہ شمار ہوگا اور اس کا نان ونفقہ بھی اس کے ذمہ لازم ہوگا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2 / 331):

"و منها ثبوت النسب، وإن كان ذلك حكم الدخول حقيقة لكن سببه الظاهر هو النكاح لكون الدخول أمرا باطنا، فيقام النكاح مقامه في إثبات النسب، ولهذا قال النبي: صلى الله عليه وسلم: «الولد للفراش، وللعاهر الحجر».

وكذا لو تزوج المشرقي بمغربية، فجاءت بولد يثبت النسب، وإن لم يوجد الدخول حقيقة لوجود سببه، وهو النكاح."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201100
تاریخ08-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں