بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مکان ہبہ کردیا تو کیا موہوب لہ اس کا کرایہ دے گا؟

سوال

ہماری پھوپھی انگلینڈ میں مقیم تھیں،  ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی کوئی اولاد نہیں ہے،  ہماری پھوپھی کو انهوں نے اپنا گھر اپنی زندگی میں ہی ہبہ کردیا تھا، پھوپھی نے وہ گھر فروخت کردیا تھا اور اس رقم سے پاکستان میں ایک دو منزلہ مکان خرید کر ہم دو بھائیوں کے نام کردیا ہے، ان کی ذرائع آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے اور عمر کے باعث اگر ہم انهیں خطیر رقم بطورِ کرایہ ان کو دے دیا کریں تو یہ شرعی طور پر کیسا رہے  گا؟ 

جواب

اگر آپ کی پھوپھی نے مذکورہ مکان آپ دو بھائیوں کے نام کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا مکمل قبضہ بھی آپ دونوں کو دے دیا ہے تو شرعاً یہ مکان آپ دونوں کی ملکیت ہوچکا ہے جس کا کرایہ آپ دونوں پر لازم نہیں، تاہم اگر آپ کرائے کے نام پر انہیں کچھ رقم دینا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی طرف سے ان کے ساتھ تعاون ہوگا، جس پر آپ دونوں اجر وثواب کے مستحق ہوں گے۔ 

الفتاوى الهندية  (4 / 376):

وتصح في محوز مفرغ عن أملاك الواهب وحقوقه ومشاع لا يقسم ولا يبقى منتفعا به بعد القسمة من جنس الانتفاع الذي كان قبل القسمة كالبيت الصغير والحمام الصغير ولا تصح في مشاع يقسم ويبقى منتفعا به قبل القسمة وبعدها ، هكذا في الكافي ......ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا ، هكذا في المحيط . 

(کتاب الہبۃ، الباب الثانی فیما یجوز من الہبۃ ومالایجوز،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201072
تاریخ07-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں