بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بےقابو جانور کو گولی مارکر تکبیرات پڑھ کر قربان کرنےکاحکم

سوال

اگر قربانی کا جانور غصے سے یا خوف سے بے قابو ہو جائے، تو کیا اسے تکبیر پڑھ کر گولیوں کا نشانہ بنا کر قربان کیا جاسکتا ہے؟ 

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر جانور (جیسے گائے بیل وغیرہ ) بے قابو ہو جائے اور کسی طرح قابو میں نہ آرہا ہو تو اس کو گولی مار کر زخمی کیا جاسکتا ہے ، لیکن حلال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زخمی کرنے کے بعد اس کو شرعی طریقہ  سے ذبح کیا جائے، اگر ذبح کرنے سے پہلے وہ مر جائے تو اس کا کھانا حلال نہیں ہوگا۔تکبیر پڑھنا ذبح کے وقت ضروری ہے ، گولی مارتے وقت تکبیر پڑھنے کا اعتبار نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

(وحل) المذبوح (بقطع أي ثلاث منها) إذ للأكثر حكم الكل....والمختار أن كل شيء ذبح وهو حي أكل، عليه الفتوى - {إلا ما ذكيتم} [المائدة: 3]- من غير تفصيل۔

(کتاب الذبائح، ج:6، ص:295، ط:ایچ ایم سعید)

  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201071
تاریخ07-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں