بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایام کے دوران عورت کا زیرِ ناف بال کاٹنا

سوال

عورت کا ماہواری کے ایام میں زیر ناف بالوں کو غسل کرنے سے پہلے صاف کرنا کیسا ہے؟

جواب

ماہواری کے ایام میں زائد بالوں کی صفائی  کرنا مکروہِ تنزیہی ہے، یعنی نہ کرنا بہتر ہے، البتہ  اگر ماہواری کے ایام میں زیر ناف بال وغیرہ کو  چالیس دن سے زائد ہونے لگیں تو اسے کاٹنا ضروری ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

''حلق الشعر حالة الجنابة مكروه، وكذا قص الأظافير، كذا في الغرائب."

(الباب التاسع عشر، ج:5، ص:358، ط:مکتبہ رشیدیہ)

 مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج میں ہے:

"فَائِدَةٌ: قَالَ فِي الْإِحْيَاءِ: لَا يَنْبَغِي أَنْ يُقَلِّمَ أَوْ يَحْلِقَ أَوْ يَسْتَحِدَّ أَوْ يُخْرِجَ دَمًا أَوْ يُبِينَ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا وَهُوَ جُنُبٌ، إذْ يُرَدُّ إلَيْهِ سَائِرُ أَجْزَائِهِ فِي الْآخِرَةِ فَيَعُودُ جُنُبًا، وَيُقَالُ: إنَّ كُلَّ شَعْرَةٍ تُطَالِبُ بِجَنَابَتِهَا."

(باب الغسل، ج:1، ص:222، ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201068
تاریخ07-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں