بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

درود شریف کو مہر کے طور پر مقرر کرنا

سوال

ایک لڑکی  اپنے مہر میں  ۳۶۰۰ درود شریف رکھنا چاہتی ہے، کیا یہ مہر میں شمار ہوگا؟ کیا اس طرح کی گئی شادی درست ہوگی؟ 

جواب

واضح رہے کہ مہر میں ایسی چیز دینا ضروری ہے جو کہ مال متقوم ہو، اگرکسی نے مہر  میں ایسی چیز طے کرلی جوشرعاً مال نہ ہو تو اس کا نکاح تو منعقد ہوجائے گا، البتہ شوہر پر عورت کے لیے مہر مثل واجب ہوگا۔ درود شریف پڑھنا اگرچہ نہایت مبارک اور فضیلت والا عمل ہے، لیکن چوں کہ مال نہیں ہے، لہٰذا یہ مہر نہیں بن سکتا، لہذا صورت مسئولہ میں نکاح منعقد ہوجائے گا، لیکن  مذکورہ لڑکی کے شوہر پر مہر مثل دینا  واجب ہے۔

لمافی التفسیر المظھری (47/2):
فائدة:هذه الآية تقتضى أن المهر لا بد أن يكون مالا لأن الحلّ مقيّد بالابتغاء بالأموال والمنافع المعلومة ملحق بالأموال شرعا۔
وفی الھندیۃ (302/1):
الباب السابع فی المھر: المھر انما یصح بکل ماھو مال متقوم۔

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201056
تاریخ07-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں