بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف جمعہ کے دن نفلی روزے کا حکم

سوال

 کیا ہم صرف جمعہ کے دن کا نفلی روزہ رکھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حدیث شریف میں خاص جمعہ کے دن  روزے کا معمول بنا لینے سے منع کیا گیا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں  جمعہ کے دن کو خاص کرکے موجبِ فضیلت سمجھ کر روزہ رکھنا یا اس کا التزام کرنا مکروہ ہے۔ البتہ  جمعہ کے ساتھ آگے پیچھے کوئی اور دن بھی ملا لیاجائے، تو درست ہے، اور مکروہ نہیں ہے، اسی طرح اگر کبھی اتفاقًا رکھ لیا اور اسے خاص فضیلت کا سبب نہ جانا تو بھی اجازت ہوگی۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «لا يصومن أحدكم يوم الجمعة، إلا يوما قبله أو بعده»."

(صحیح البخاری ج: 3صفحہ: 42،باب صوم يوم  الجمعة،ط: دار طوق النجاة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201040
تاریخ06-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں