بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داد دینے کے لیے تالی بجانا

سوال

تالی مارنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ کسی کھیل یا کسی اچھی کاوش پر داد کے لیے تالی بجانا کیسا ہے؟

جواب

کسی اچھے اور قابلِ ستائش عمل پر داد دینے یا کسی کی اچھی بات کو سراہنے کا شرعی طریقہ جو اسلاف سے منقول ہے وہ  "سبحان الله"، "ماشاء الله" یا "الله أکبر" کہنا ہے، جب کہ تالیاں بجانا اَغیار کا طریقہ اور عبث ہے، مسلمانوں کو بہرحال اس سے بچنا چاہیے۔

تالی مارنا یعنی دو آدمی کسی خوشی کی بات یا کام میں موافقت پر اظہارِ خوشی کے لیے باہم تالی ماریں، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس سے کسی تیسرے فرد کا ضرر (مثلاً دل آزاری، یا اس مذاق اڑانا، کسی کے خلاف ناحق مدد کرنے کے لیے ہاتھ دینا وغیرہ) متعلق نہ ہو تو دو افراد کے باہم تالی مارنے کی گنجائش ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201033
تاریخ06-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں